ذہنی
توازن کی خرابی بہت سے مسائل پیدا کرتی
ہے، اُس شخص کے لئے بھی جس کو یہ لاحق ہوتی
ہے اور اُس کے دوستوں اور خاندان دونوں
کے لئے بھی۔ ان مسائل میں سے زیادہ تر
یادداشت کھوئے جانے کی وجہ سے پیدا ہوتے
ہیں۔ذہنی توازن کی خرابی کی عام علامات
کی فہرست کے لئے کلک کریں۔
۱
یاداشت
کا کھوجانا:
کسی
طے شدہ ملاقات کو بھول جاناےا کافی کا کپ
کہیں رکھ کر بھول جانا معمول کی بات ہے۔ذہنی
توازن کی خرابی کے مریض اکثر چیزیں بھول
جاتے ہیں …اور پھر وہ دوبارہ اُنہیں کبھی
یاد نہیں کر پاتے۔
۲
مانوس
کاموں کی انجام دہی میں مشکل
ہم
اپنے خاندان کے لئے کھانا بنا سکتے ہیں،
اور سلاد دینا بھول سکتے ہیں۔ ذہنی توازن
کی خرابی کے مریض سرے سے یہی بات بھول سکتے
ہیں کہ اُنہوں نے کوئی کھانا تیار بھی کیا
ہے۔
۳
زبان
کے مسائل
ہم
سب کو بعض اوقات درست اور موزوں الفاظ
تلاش کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔ذہنی توازن
کی خرابی میں مبتلا مریض الفاظ…حتیٰ کہ
سادہ الفاظ بھی بھول سکتے ہیں اور اُنہیں
آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیںجواکثر اوقات
اُن کی گفتگو کو بے معنی بنا دیتا ہے۔
۴
وقت
اور جگہ کی ناموافقت
آج
کیا تاریخ ہے؟ میں بیٹھنے والے کمرے میں
کیا لینے گیا تھا؟ کوئی بھی ایسی باتیں
بھول سکتا ہے۔ ذہنی توازن کی خرابی کے
مریض اپنی گلی میں بھی گم ہو سکتے ہیں۔وہ
بھول سکتے ہیں کہ اُنہیں کس جگہ کیسے جانا
ہے اور گھر واپس کیسے آنا ہے۔
۵
کمزور
قوتِ فیصلہ
بعض
اوقات کوئی بھی بدحواس ہو سکتا ہے لیکن
جن لوگوں کو ذہنی توازن کی خرابی لاحق
ہوتی ہے، وہ مکمل طور پر بھول سکتے ہیں کہ
وہ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ وہ سادہ
باتیں بھی بھول سکتے ہیں…اور مثال کے طور
گرم موسم میں بھاری کوٹ پہن لیتے ہیں۔
۶
تخیلاتی
سوچ کے مسائل
کوئی
شخص بھی اپنے محصولات یا ٹیکس کا حساب
کتاب کرنے، یا اپنے کاروباری کھاتوں کے
حساب کتاب میں مشکل کا شکار ہو سکتا ہے
لیکن ذہنی توازن میں خرابی والے افراد یہ
بھول سکتے ہیں کہ اعداد کیا ہوتے ہیں اور
اُن سے کیاکام لیا جاتا ہے۔
۷
چیزیں
گم کر دینا
ذہنی
توازن میں خرابی کے مریض استری فریزر
میں، اور گھر کی چابیاں جرابوں والی دراز
میں رکھ سکتے ہیں اور اس کے متعلق بھول
جاتے ہیں ۔ بعد میں وہ یہ چیزیں دوبارہ
نہیں پا سکتے۔
۸
مزاج
میں اُتار چڑھاؤ
بعض
اوقات ہر کوئی چڑچڑا ہو جا تا ہے لیکن ذہنی
توازن میں خرابی کے مریضوں کے مزاج
میں تیزی سے اُتار چڑھاؤ آ سکتا ہے…لمحوں
میںخوشی سے غمی اور پھر غصہ۔
۹
شخصیت
میں تبدیلی
جوں
جوں ہم بڑے ہوتے ہیں، بہت سی چیزوں کے
متعلق ہمارے ادراک میں تبدیلی ایک فطری
بات ہے۔ ذہنی توازن میںخرابی کے مریضوں
میںشخصیت کی شدید تبدیلیاں رو نما ہو سکتی
ہیں۔ مثال کے طور پر وہ پریشانی اور
جھنجھلاہٹ کا شکار ہو سکتے ہیں…یا خوفزدہ
ہو سکتے ہیں…چاہے ماضی میں اُن کے ساتھ
اَیسا کبھی نہ ہوا ہو۔
۱۰
پیش
قدمی کا فقدان
بعض
اوقات ہم سب روزمرہ زندگی کی ہلچل سے پست
حوصلگی یا کم ہمتی محسوس کر سکتے ہیں۔
ذہنی توازن میں خرابی میں مبتلا افراد
مکمل طور پر مایوس یا شکست خوردہ ہو سکتے
ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ کہیں بھی نہ جانا چاہتے
ہوں اور نہ ہی لوگوں سے ملنا چاہتے ہوں۔حتیٰ
کہ اُنہیں آسان ترین کاموں کی انجام دہی
کے لئے بھی یقین اور حوصلے کی ضرورت پڑ
سکتی ہے۔
بڑهاپے كی نشانی نہیں
جب پہلےكہا جاتا تها كہ بزرگ افراد ، “ منجمد “ ، “ بڑهاپہ پن “ یا “ بچپنے میں كهو “ جاتےہیں تو یہ غلط فہمی كی بنا پر تها ضعیف العقلی كی علامات كوئ عام نہیں اور بڑهاپے كی وجہ سے نہیں آتی
اكثر افراد كو علامات سے بڑهاپے میں واستہ پڑتا ہے لیكن ۴۰ سے ۵۰ كی عمر والے افراد بهی علامات كا شكار ہو سكتے ہیں
روز مرہ میں مدد
ضعیف العقلی كے لاحق افراد كا لواحقین ہونا مشكل ہو سكتا ہے اس لیے خاندان اور دوسرے لواحقین كو رہنمائ اور مدد كی ضرورت ہے اپنے بلدیہ میں تم گهریلو مدد، بو جه كم كرنے اور ڻرانسپورٹ كی صورت میں عملی مدد لے سكتے ہو۔ تمہارا بلدیہ تمہیں یہ بهی بتا سكتا ہے كہ تمہارے علاقے میں كون سی تنظیمیں ضعیف العقلی كی بیماری كے بارے كام كرتی ہیں